Welcome to Pak News World

Monday, 28 August 2017

’اکلوتے لڑکا یا لڑکی سے کبھی بھی شادی نہ کریں کیونکہ انہیں یہ شرمناک عادت ہوتی ہے کہ۔۔۔‘ سائنسدانوں نے خبردار کردیا، کونسی عادت بے نقاب کردی؟ جان کر ہر پاکستانی شادی سے پہلے اس بات پر ضرور غور کرے گا



شادی سے پہلے کئی طرح کی ضروری باتوں کی چھان پھٹک کی جاتی ہے لیکن یہ تو کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ لڑکی یا لڑکے کے بارے میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کہیں وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تو نہیں۔

شاید آپ بھی کہیں گے کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی، اکلوتے لڑکی یا لڑکی سے ایسا کیا خطرہ ہو سکتا ہے، تو جان لیجئے کہ ناجائز مراسم کی آن لائن ڈیٹنگ ویب سائٹ ’الیسٹ انکاﺅنٹرز‘ نے اس معاملے پر تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ اکلوتے لوگ بڑے بے وفا ہوتے ہیں۔
 دی مرر کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں خود بھی یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ اکلوتے افراد بے وفائی کے سب سے زیادہ مرتکب ہوتے ہیں۔ اس ویب سائٹ کے ارکان میں سے بھی 34فیصد ایسے ہیں
جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہیں، اور یاد رہے کہ یہ ویب سائٹ قائم ہی ان لوگوں کے لئے کی گئی ہے جو اپنے شریک حیات کو دھوکہ دے کر کسی اور کے ساتھ مراسم استوار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر بے وفائی کے سب سے زیادہ مرتکب ہونے والے وہ افراد ہیں جو اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہوتے ہیں۔
ان کی شرح 28 فیصد ہے۔سماجی تعلقات کے ماہر کرسٹیان گرانٹ کا کہنا تھا کہ ”اکلوتے بچے عموماً بچپن میں بے حد تنہائی کا شکار رہتے ہیں اور یہ احساس بڑے ہونے پر بھی ان کے ذہن سے محو نہیں ہوتا۔
وہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ توجہ کے طلبگار رہتے ہیں۔ ایسے افراد کا شریک حیات کچھ عرصے کے لئے ان سے دور ہے، دفتر میں زیادہ وقت گزارے یا لمبے سفر پر چلا جائے تو ان کے بھٹکنے کا خدشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ا یسی صورت میں وہ اپنی توجہ کی طلب پر قابو نہیں رکھ پاتے اور کسی دوسرے شخص کی جانب مائل ہو سکتے ہیں۔“
دوسری جانب وہ افراد سب سے کم بے وفائی کے مرتکب پائے گئے جو بہن بھائیوں میں درمیانے نمبر پر ہوتے ہیں۔ عموماً ان بچوں کو بچپن میں پیار اور توجہ کی کمی نہیں ہوتی لہٰذا بڑے ہوکر بھی یہ اپنے شریک حیات سے عارضی دوری کی وجہ سے بھٹکتے نہیں ہیں۔
Share:

دنیا کے بد ترین شہروں کی فہرست جاری ، پاکستان کا کون سا شہر فہرست میں شامل ۔۔ حیرت کے شدید جھٹکے کیلئے تیار ہو جائیں

کراچی(این این آئی) عالمی ادارے اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی تازہ ترین رپورٹ میں کراچی کو رہائش اختیار کرنے کے لحاظ سے چھٹا بدترین شہر قرار دیا گیا ہے جبکہ آسٹریلوی شہر میلبورن نے بہترین زندگی گزارنے کی فہرست میں اول نمبر حاصل کیا ہے۔برطانوی ادارے اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں رہائش کے لیے دنیا کے بہترین اور بدترین شہروں کو فہرست ترتیب دی ہیں، یہ درجہ بندی دنیا بھر کے 140 شہروں کو 100 میں سے نمبر دیتی ہے،جو صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، امن و امان اور دہشت گردی کے خطرے کے لحاظ سے دیئے جاتے ہیں۔
اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ نے بھی گندگی کے ڈھیر شہر کراچی کو دنیا کے ناقابل رہائش 10بدترین شہروں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ ایک سو چالیس بڑے شہروں کی لسٹ میں کراچی کا 134 نمبر ہے۔مزید شرمندگی کی بات یہ ہے کہ بھارت کے تمام شہروں کی حالت شہر قائد سے بہتر ہے۔ای آئی یو کی جانب سے یہ فہرست شہر کے انفراسٹرکچر، سماجی ماحول، تعلیمی اور طبی سہولیات کے انڈیکس کو سامنے رکھ کر مرتب کی جاتی ہے۔
بد ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر دمشق ، دوسرے پر لاگوس اورتیسرے نمبر پرطرابلس ہیں، بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کا چوتھا نمبر ہے جبکہ رہائشی سہولیات کے حوالے سے بدترین شہروں کی فہرست میں کراچی چھٹے نمبر پر آگیا اور ہرارے، ڈوآلہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔فہرست میں بہترین شہروں میں ملبورن، ویانا، وینکور، ٹورنٹو، کیلگری، ایڈیلیڈ، پرتھ، آکلینڈ، ہیلسنکی اور ہیمبرگ ہیں۔ آسٹریلوی شہر میلبورن نے بہترین زندگی گزارنے کی فہرست میں اول نمبر حاصل کیا ہے
Share:

Pknews7.com

Total Pageviews

Labels